پاکستان کے تیل کے شعبے میں جلد ہی اہم اصلاحات متوقع ہیں کیونکہ ایک کمیٹی نے مرحلہ وار ڈی ریگولیشن پر اتفاق کر لیا ہے۔ اس اقدام میں تیل کی قیمتوں پر حکومتی کنٹرول ختم کرنا شامل ہے، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ مارکیٹ کی کارکردگی کو بہتر بنائے گا اور بالآخر صارفین کو فائدہ پہنچائے گا۔ اس منتقلی کا مقصد مقامی ایندھن کی لاگت کو بین الاقوامی قیمتوں کے قریب لانا ہے۔ پاکستان میں سونے اور کرنسی کی مارکیٹوں کے لیے، یہ ڈی ریگولیشن مہنگائی کی حرکیات اور حکومت کی مالی صحت کو متاثر کر سکتی ہے، جس سے USD/PKR کی شرح اور سرمایہ کاروں کے جذبات پر اثر پڑ سکتا ہے۔
بحوالہ / Source: tribune.com.pk