پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت، جو ملک کی 60 فیصد برآمدات کا ذریعہ ہے، ایک سنگین چیلنج کا سامنا کر رہی ہے: عالمی برانڈز سبز پیداوار اور کم قیمتوں کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ مقامی توانائی کے اخراجات 15.7 سینٹ فی یونٹ کے ساتھ بہت زیادہ ہیں۔ یورپی یونین کا کاربن بارڈر ایڈجسٹمنٹ میکانزم (CBAM) اور نیٹ زیرو اہداف برآمد کنندگان کو سالانہ 350 ملین یورو تک کا نقصان پہنچا سکتے ہیں، جس سے مارکیٹ تک رسائی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ اگرچہ کمپیٹیٹو ٹریڈنگ بائی لیٹرل کنٹریکٹس مارکیٹ (CTBCM) سستی قابل تجدید توانائی کا راستہ فراہم کرتی ہے، لیکن اس کی کامیابی حکومت کی جانب سے کم وہیلنگ چارجز اور برانڈز کی مشترکہ سرمایہ کاری پر منحصر ہے۔ ان مسائل سے نمٹنے میں ناکامی پاکستان کی برآمدی آمدنی کو کمزور کر سکتی ہے، جو ممکنہ طور پر امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے پر دباؤ ڈالے گی اور مقامی سونے کی قیمتوں کو متاثر کرے گی۔
بحوالہ / Source: www.brecorder.com