مالی سال 26 میں پاکستانی آٹو اسمبلرز نے 2.118 ارب ڈالر مالیت کی CKD/SKD کٹس درآمد کیں، جو مالی سال 25 سے 92 فیصد زیادہ ہے اور مقامی پیداوار میں کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ درآمدات میں یہ اضافہ اسٹیٹ بینک کے 18 ارب ڈالر سے کم فاریکس ذخائر پر دباؤ ڈال رہا ہے۔ آٹو پارٹس بنانے والے غیر ضروری درآمدات کو روکنے اور مقامی صنعت کو بچانے کے لیے نیشنل ٹیرف پالیسی پر فوری نظرثانی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ فاریکس ذخائر پر مسلسل دباؤ پاکستانی روپے کی مزید گراوٹ کا باعث بن سکتا ہے، جس سے مقامی سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
بحوالہ / Source: www.dawn.com