ایران کی پارلیمنٹ آبنائے ہرمز سے امریکہ، اسرائیل اور دیگر "دشمن" بحری جہازوں پر مستقل پابندی عائد کرنے کے بل پر غور کر رہی ہے، جس سے جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ پیشرفت تہران اور واشنگٹن کے متضاد بیانات کے درمیان سامنے آئی ہے، جہاں امریکی صدر ٹرمپ نے سفارتی حل کے قریب ہونے کا اشارہ دیا ہے۔ اس غیر یقینی صورتحال سے عالمی تیل منڈیوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ پیدا ہو رہا ہے۔ اگر یہ مستقل ناکہ بندی نافذ ہوتی ہے تو یہ عالمی تیل کی سپلائی کو شدید متاثر کر سکتی ہے، جس سے خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو سکتا ہے، جو سونے کو محفوظ پناہ گاہ کے طور پر مضبوط کر سکتا ہے اور پاکستانی روپے پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔
بحوالہ / Source: oilprice.com