امریکہ، اسرائیل اور سعودی عرب ایران کو عالمی تیل مارکیٹ سے الگ کرنے کے لیے ایک منصوبہ تیار کر رہے ہیں، ایسے میں جب تہران آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسی اہم سمندری توانائی گزرگاہوں پر عملی کنٹرول قائم کر چکا ہے۔ ایران کا ان اہم آبی گزرگاہوں پر کنٹرول عالمی طاقتوں کی جانب سے تسلیم کیا جاتا ہے۔ تیل کی سپلائی کے راستوں کے گرد بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ کر سکتی ہے، جس سے پاکستان میں مہنگائی بڑھنے اور سونے کی محفوظ پناہ گاہ کے طور پر طلب میں اضافے کا امکان ہے۔
بحوالہ / Source: oilprice.com