پنجاب میں حکام نے ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کر دیا ہے، گزشتہ ہفتے صوبے بھر میں 3 لاکھ 89 ہزار سے زائد معائنے کیے گئے۔ اس مہم کے نتیجے میں زائد قیمت وصول کرنے اور سرکاری نرخ نامے آویزاں نہ کرنے پر 4.58 کروڑ روپے سے زائد کے جرمانے عائد کیے گئے۔ سیکرٹری ڈاکٹر کرن خورشید نے بتایا کہ 57 مقدمات درج اور 414 افراد کو گرفتار کیا گیا، جبکہ منافع خوری کے 22,606 کیسز رپورٹ ہوئے۔ اگرچہ یہ کوششیں مقامی قیمتوں کو مستحکم کرنے کے لیے ہیں، لیکن پاکستان میں سونے یا کرنسی کی شرح پر ان کا براہ راست اثر عام طور پر کم سمجھا جاتا ہے۔
بحوالہ / Source: www.brecorder.com