بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق، روس نے بھارت سے پٹرول درآمد کرنا شروع کر دیا ہے، جس میں نایارا انرجی کی وادینار ریفائنری سے 42,000 ٹن کا ایک کارگو جولائی کے اوائل میں روس پہنچا۔ یہ پیشرفت گزشتہ نومبر میں امریکی پابندیوں کے بعد روسنیفٹ کی خام تیل کی ترسیل میں خلل کے بعد ہوئی ہے، جو اندرونی ریفائنری مسائل کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ روسی ریفائننگ کی صلاحیت میں مسلسل خلل عالمی ایندھن کی سپلائی کو متاثر کر سکتا ہے، جس سے خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہ پاکستان کے لیے درآمدی مہنگائی کو بڑھا سکتا ہے اور PKR پر دباؤ ڈال کر مقامی سونے کی قیمتوں کو بالواسطہ سہارا دے سکتا ہے۔
بحوالہ / Source: oilprice.com