روس کی ڈیزل اور گیس آئل کی برآمدات اگست کے پہلے سات دنوں میں صرف 80,000 بیرل یومیہ رہ گئیں، جو کئی سالوں میں سب سے کم ہے۔ یہ کمی یوکرین کے روسی ریفائنریوں پر حملوں کے بعد ایندھن کے بحران کے باعث ماسکو کی جانب سے ڈیزل برآمدات پر پابندیوں میں توسیع کی وجہ سے ہوئی ہے۔ برآمدات میں یہ نمایاں کمی عالمی مڈل ڈسٹیلیٹ مارکیٹ کو مزید دباؤ میں لا رہی ہے۔ عالمی ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے پاکستان کا درآمدی بل اور مہنگائی متاثر ہو سکتی ہے، جس سے بالواسطہ طور پر USD/PKR کی شرح پر اثر پڑ سکتا ہے۔
بحوالہ / Source: oilprice.com