آبنائے ہرمز کی مؤثر بندش نے سینکڑوں تجارتی جہازوں کو افریقہ کے گرد لمبے راستوں پر مجبور کر دیا ہے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے صومالی قزاقوں نے اپنی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ اپریل سے جولائی 2026 کے دوران خلیج عدن اور پنٹ لینڈ کے قریب تیل کے ٹینکرز MT Honour 25، MT Eureka اور MT Asana کو اغوا کیا گیا، جو کئی سالوں میں سب سے بڑے حملے ہیں۔ ایران جنگ اور بحری وسائل کی منتقلی سے قزاقی میں یہ اضافہ خام تیل کی ترسیل کے خطرات کو بڑھا رہا ہے۔ اس بڑھتے ہوئے جغرافیائی سیاسی خطرے اور تیل کی ممکنہ قیمتوں میں اضافے سے بین الاقوامی سونے کی طلب میں اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ پاکستان میں درآمدی لاگت بڑھنے سے USD/PKR پر بھی دباؤ پڑ سکتا ہے۔
بحوالہ / Source: oilprice.com