شیورون، کونوکو فلپس اور آکسیڈینٹل جیسی بڑی امریکی شیل تیل کمپنیوں نے سال کے پہلے نصف میں اپنے اخراجات میں 10 سے 20 فیصد تک کمی کی ہے۔ یہ حکمت عملی موجودہ بلند بین الاقوامی تیل کی قیمتوں کے باوجود قرض کم کرنے اور شیئر ہولڈرز کو منافع بڑھانے کو ترجیح دیتی ہے، پیداوار میں توسیع پر نہیں۔ اس اقدام سے مستقبل میں تیل کی پیداوار میں کمی آنے کا امکان ہے، جس سے عالمی رسد مزید تنگ ہو سکتی ہے۔ پاکستان کے لیے، اس کا مطلب خام تیل کی درآمدی لاگت میں اضافہ ہو سکتا ہے، جو مہنگائی کو متاثر کرے گا اور ممکنہ طور پر روپے کو ڈالر کے مقابلے میں کمزور کر سکتا ہے، جس سے مقامی سونے کی قیمتوں کو اکثر سہارا ملتا ہے۔
بحوالہ / Source: oilprice.com