تیل پیدا کرنے والے ممالک آبنائے ہرمز سے بچنے کے لیے نئے راستے تلاش کر رہے ہیں، جس سے تیل کی ترسیل کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ سے چین کے سفر کے لیے VLCC کی شرح $500,000 یومیہ سے تجاوز کر گئی ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد کم ہو گئی ہے، حالانکہ سعودی آرامکو نے راس تنورہ سے لوڈنگ دوبارہ شروع کر دی ہے۔ بڑھتے ہوئے اخراجات اور سپلائی چین کے خطرات بین الاقوامی خام تیل کی قیمتوں کو مزید بڑھا سکتے ہیں، جس سے پاکستان کے درآمدی بل پر اثر پڑ سکتا ہے اور مقامی مہنگائی بڑھ سکتی ہے، جو PKR کو کمزور کر کے مقامی سونے کی قیمتوں کو سہارا دے سکتا ہے۔
بحوالہ / Source: oilprice.com