پاکستان میں RLNG سے بجلی کی پیداواری لاگت جولائی میں 242 فیصد بڑھ کر 47.4 روپے فی یونٹ ہو گئی، جو اپریل میں 14 روپے سے کم تھی۔ یہ اضافہ امریکہ-ایران جنگ کے باعث قطر سے سپلائی معطل ہونے کے بعد مہنگی سپاٹ مارکیٹ سے ایل این جی کی خریداری کی وجہ سے ہوا۔ پاور کمپنیوں نے ستمبر کے بلوں میں صارفین سے 2.52 روپے فی یونٹ فیول ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے 36.5 ارب روپے اضافی وصول کرنے کی درخواست کی ہے۔ اگست میں RLNG کی قیمتیں مزید 32 فیصد بڑھ کر 25.83 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں، جو اکتوبر میں مزید اضافے کا اشارہ ہے۔ یہ نمایاں مہنگائی کا دباؤ پاکستانی روپے کو کمزور کر سکتا ہے اور بڑھتی ہوئی لاگت اور جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال کے خلاف سونے کی مانگ میں اضافہ کر سکتا ہے۔
بحوالہ / Source: www.dawn.com