ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ پاکستان کے زرعی شعبے کو موسمیاتی جھٹکوں، مسلسل کم سرمایہ کاری اور کمزور بنیادی ڈھانچے کی وجہ سے فصل کٹنے کے بعد سالانہ تقریباً 2 ارب ڈالر کا نقصان ہوتا ہے۔ پانی کے غیر مؤثر استعمال، ناکافی کولڈ چین سہولیات اور ناقص سرٹیفیکیشن سسٹمز جیسے مسائل اس شعبے کو متاثر کر رہے ہیں، جو ملک کی جی ڈی پی کا پانچواں حصہ اور محنت کشوں کا ایک تہائی حصہ ہے۔ رپورٹ میں مالیاتی رسائی کی کمی، ادارہ جاتی کمزوریاں اور ٹیکنالوجی کے خلا کو اہم رکاوٹیں قرار دیتے ہوئے، شعبے کی تبدیلی کے لیے ایک پانچ نکاتی حکمت عملی تجویز کی گئی ہے۔ اگرچہ یہ رپورٹ طویل مدتی اقتصادی چیلنجوں کو اجاگر کرتی ہے، تاہم پاکستان میں سونے یا کرنسی کی شرح پر اس کا فوری اثر محدود رہنے کا امکان ہے، یہ زیادہ تر ایک ساختی اقتصادی اشارے کے طور پر کام کرے گا۔
بحوالہ / Source: www.brecorder.com