روسی تیل پر امریکی بل سے بھارت-امریکا تجارتی مذاکرات متاثر ہونے کا امکان نہیں

روسی تیل پر امریکی بل سے بھارت-امریکا تجارتی مذاکرات متاثر ہونے کا امکان نہیں

نئی دہلی کو امریکی قانون سازی کے ایک مجوزہ بل سے واشنگٹن کے ساتھ اپنے تجارتی مذاکرات میں کسی قسم کی پیچیدگیوں کی توقع نہیں ہے۔ اس بل کا مقصد روسی تیل خریدنے والے ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنا ہے، جو عالمی توانائی کی تجارت کی حرکیات کو متاثر کر سکتا ہے۔

ایک بھارتی حکومتی ذرائع نے بتایا کہ روسی تیل کی خریداری سے منسلک ممکنہ ٹیرف تجارتی بات چیت میں کوئی رکاوٹ نہیں بنے ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تفہیم یا معاملات کو الگ سے نمٹانے کی نشاندہی کرتا ہے۔ بھارت نے مبینہ طور پر امریکہ سے روسی تیل کی خریداری پر چھوٹ میں توسیع کی درخواست بھی کی ہے۔

پاکستان کی مارکیٹ کے لیے، خام تیل کی مستحکم قیمتیں، جو روسی تیل کی تجارت کے تسلسل سے متاثر ہو سکتی ہیں، درآمدی مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں مدد کر سکتی ہیں، جس سے بالواسطہ طور پر امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کو سہارا مل سکتا ہے اور مقامی سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کم ہو سکتا ہے۔

بحوالہ / Source: www.brecorder.com