پاکستان نے امریکہ سے 10 ارب ڈالر کی ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سہولت کی باضابطہ درخواست کی ہے، جس کا مقصد ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھانا ہے۔ یہ پیشرفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور حوثی باغیوں کی دھمکیوں کے باعث برینٹ خام تیل کی قیمت 0.6 فیصد اضافے کے ساتھ 91.55 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے۔ اندرون ملک، منفی مارکیٹ جذبات کے باعث KSE-100 انڈیکس 400 سے زائد پوائنٹس گر گیا۔ امریکہ کی جانب سے ممکنہ مالی سہولت پاکستان کی معیشت اور کرنسی کے لیے اہم ریلیف فراہم کر سکتی ہے، جبکہ تیل کی بڑھتی قیمتیں درآمدی لاگت اور مہنگائی کے دباؤ میں اضافہ کر سکتی ہیں، جس سے مقامی سونے اور USD/PKR کی شرح متاثر ہو سکتی ہے۔
بحوالہ / Source: www.brecorder.com