اسٹیٹ بینک نے ہاؤسنگ فنانس کے قواعد میں ترمیم کی ہے، جس کے تحت بینک اور DFIs اب 20 کے بجائے 30 سال تک کے ہاؤسنگ قرضے دے سکیں گے، اور Loan-to-Value تناسب کو 90:10 تک بڑھا دیا گیا ہے۔ قرض کی ماہانہ ادائیگیوں کا مجموعی بوجھ قرض لینے والے کی خالص آمدنی کے 65 فیصد سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ اس اقدام کا مقصد ہاؤسنگ سیکٹر کو فروغ دینا ہے تاکہ مالیات تک رسائی آسان ہو۔ اگرچہ یہ معیشت کے لیے ایک مثبت قدم ہے، لیکن سونے کی قیمتوں یا USD/PKR شرح مبادلہ پر اس کا فوری اثر محدود رہنے کی توقع ہے۔
بحوالہ / Source: www.dawn.com