سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ چار سال پاکستان کی معیشت کے بدترین ادوار میں سے تھے۔ انہوں نے ریکارڈ مہنگائی، انتہائی کم اقتصادی ترقی اور غربت میں اضافے کی نشاندہی کی، اور دعویٰ کیا کہ سرکاری اعداد و شمار معیشت کی تباہی کی کہانی سنا رہے ہیں۔ عمر نے پیٹرولیم لیوی میں اضافے اور ٹیکس کے عدم توازن پر بھی تنقید کی، جہاں تنخواہ دار طبقے نے 600 ارب روپے سے زائد ٹیکس ادا کیے جبکہ جاگیرداروں نے 10 ارب روپے سے بھی کم۔ معاشی بدانتظامی اور مہنگائی پر ایسی شدید تنقید مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کو بڑھا سکتی ہے، جس سے پاکستانی روپے کی قدر میں کمی اور سونے کی طلب میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
بحوالہ / Source: www.brecorder.com